میڈیاہاؤس اور اخباربھی پربھی پابندی لگائی،مزید ایک شخص کی موت ،مرنے والوں کی تعداد39ہوئی
سرینگر، 16جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)کپوارہ میں اپنے غم وغصہ کا اظہارکرنے والے مظاہرین پر سکیورٹی کے بے رحمانہ حملے میں آج مزید ایک شخص کی موت ہو گئی۔وادی میں کرفیو لگا ہوا ہے اور کچھ حصوں میں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔گزشتہ ہفتے سے شروع ہوئے مظاہرین پرحملے میں اب تک 39افراد کی موت ہو چکی ہے اور 3100سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ایک پولیس افسر نے کہا کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع کے ہتم اللہ میں مظاہرین پر سکیورٹی اہلکارنے حملہ کردیا۔اس واقعہ میں ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ دو زخمی ہوئے۔کشمیری نوجوان برہان وانی کے مارے جانے کے بعد سے ہوئے مظاہرین پرحملے میں اب تک مارے گئے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 39ہو گئی جبکہ 3140افراد زخمی ہوئے ہیں۔افسر نے کہا کہ وادی میں کچھ حصوں میں معمولی مظاہروں کی خبر ہے لیکن سکیورٹی نے مظاہرین کا پیچھا کر کے انہیں بھگا دیا اور ان پر لاٹھی چارج کرنے سے بھی نہیں چوکی۔انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر میں باقی جگہ آج کل ملاکر امن رہی۔حکام نے آج اخباروں کومنظرعام پر آنے سے روک دیا اور کچھ میڈیا اداروں نے دعوی کیا کہ پولیس نے کل رات ان کی پرنٹنگ پریس پر چھاپے مار کر مواد ضبط کر لیا جبکہ کیبل ٹی وی سروس بھی وادی کے کئی حصوں میں متاثر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وادی میں کل پتھراؤ کے کئی واقعات کو دیکھتے ہوئے کرفیو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔